ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شکاری نے اپنے سدھاۓ ہوۓ کُتے کو خرگوش کا شکار کرنے کا (task)کام دیا۔ شکاری کتے نے خرگوش کا کافی دیر پیچھا (chases)کیا مگر خرگوش کو پکڑ نہ سکا تو کّتے نے پیچھا کرتے ہوۓ بھاگتے خرگوش سے پوچھا!
”ایک بات تو بتاٶ!
”تُمہاری ٹانگیں چھوٹی ہیں،
اور میری لمبی،
پھر بھی مَیں تُمہیں کیوں نہیں پکڑ سکا؟“
خَرگوش نےبھاگتے ہوۓ ہی شِکاری کُتَّے کو جواب دِیا،
”کیونکہ!
مَیں اپنے لئے بھاگ رہا ہُوں،
اور تُم کِسی اور کے لیے بھاگ رہے ہو“۔
📝کیوریشن
خرگوش اور شکاری کتّے کی کہانی سے کچھ باتیں پتہ چلیں
ایک یہ کہ جان سب کو پیاری ہے۔
دنیا میں جتنی بھی مخلوقات ہیں جیسا کہ چرند، پرند، حشرات الارض، انسان ان میں سے ہر دوسرا اپنی زندگی کو قاٸم رکھنے کی جستجو میں ہے۔ کوٸی کسی کو شکار کر رہا ہے تو کوٸی کسی کا شکار بن رہا ہے
دوسری یہ کہ کس نے کتنی کوشش کی، ناکہ کون کتنا طاقت ور ہے
اگر ہم ماحول کا جاٸزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ اللہ نے کتنی چھوٹی مخلوق سے بڑی مخلوق سے شکست دلواٸی، حالانکہ وہ طاقت و وساٸل میں ان سے کٸی گنا بڑی تھی بس اس کے لٸے کوشش اور وساٸل کا درست سمت میں ہونا شرط ہے۔
تیسری انمول چیز کے لٸے ہار نہ ماننا۔
![]() |
تیسری اگر آپ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لٸے خرگوش نہیں بن سکتے تو دوسروں کے لہے کتّا بھی مت بنو۔
آواز اٹھانا مستقبل میں جنازے اٹھانے سے بہتر ہے۔

