ایک بزرگ اپنے خادم کے ساتھ دریا کنارے گزر رہے تھے۔کہ ان کی نظر ایک بچھو پر پڑی جو دریا میں ڈوب رہا تھا انہوں نے جلدی میں اسے باہر نکالنے کی سعی کی تو بچھو نے انہیں کاٹ لیا۔
دوسری بار ان بزرگ نے ایک لکڑی سے اُس بچھو کو نکالنے کی کو شش کی تو ساتھ میں موجود خادم سے رہا نہ گیا بولا”پہلے آپ نے اسے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش کی تو اس موذی نے آپ کو کاٹ لیا اب آپ اسے لکڑی سے نکال رہے ہیں آپ اس کے ساتھ اتنی اچھاٸی سے کیوں پیش آ رہے ہیں ہیں“ یہ سن کر بزرگ نے جواب دیا”ہاں وہ بُرا ہے پر وہ اپنی بڑاٸی نہیں چھوڑ رہا ، تو اللّٰہ عزّوجل نے مجھے اچھاٸی دی ہے تو میں اچھاٸی کیوں چھوڑوں؟
📝کیوریشن
اس واقعے سے یہ سیکھنے کو ملا کہ کسی کی بُراٸی سے دل بردا شتہ ہو کر اپنی اچھاٸی چھوڑنی نہیں ہے کیونکہ اللہ تو جانتا ہے وہ نیّتوں سے واقف ہے جیسا کہ حدیث نبوی صلى الله عليه واله وسلم ہے
”اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے“
ہمیں یہ نہیں دیکھنا دنیا کیا کہہ رہی ہے۔
ہمیں یہ دیکھنا ہے اللہ کیا فرما رہا ہے۔

No comments:
Post a Comment