Thursday, October 9, 2025

سنہری انڈے


 

                                     ایک لڑکی نے اپنے دادا جی سے پوچھا، ”دادا آپ مجھے کیا سکھا سکتے ہیں جو میری زندگی میں مفید ہو؟"

دادا نے کہا، "ایک سبق سکھاتا ہوں، لیکن پہلے کچھ ایسا کرو جو سب کی توجہ حاصل کرے۔"

لڑکی نے پوچھا، "وہ کیا؟"

دادا نے کہا، ”محلے میں جا کر سب کو بتاؤ کہ میری شتر مرغ نے ٣ سنہری انڈے دیے ہیں اور میں کروڑ پتی بننے والی ہوں۔“

لڑکی نے ایسا ہی کیا، لیکن  ایک عاد بندے کے سوا کوئی مبارکباد دینے نہ آیا۔

اگلی صبح دادا نے کہا، ”اب جا کے بتاؤ کہ ایک چور آیا، شتر مرغ کو مار ڈالا اور سنہری انڈے چرا لیئے۔“

لڑکی نے ایسا کیا اور فوراً بہت سے لوگ ان کے گھر آ گئے۔

لڑکی نے پوچھا، ”دادا ، کل کوئی نہیں آیا، آج اتنے لوگ کیوں آئے؟“

دادا نے مسکرا کر کہا، ”جب لوگ اچھی خبر سنتے ہیں، تو خاموش رہتے ہیں۔ لیکن بری خبر سنتے ہی فوراً آتے ہیں۔

                                                                                                (رضوان)
     
                                      اس کہانی کی بدولت یہ بات پتہ چلی کہ ایک تو کچھ سیکھنے سے پہلے کچھ کرنا پڑتا ہے دوسرا اچھی خبر کی بجاۓ لوگ بری خبر پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور زیادہ دلچسبی دکھاتے ہیں
تیسرا بری خبر اچھی خبر سے زیادہ تیزپھیلتی ہے مثلََا اگر کسی نے ٩٩ نیکیاں کیں اور ایک براٸی تو لوگ شاٸد اس ایک براٸی کو زیادہ ہالاٸیٹhighlight کریں بدرجہ اُن نیکیوں کے اسلٸے لوگوں سے بہت زیادہ توقعات مت رکھیں۔کیونکہ ”توقعات کا پیالہ ہمیشہ ٹھوکروں کی زد میں رہتا ہے۔“

وہم واطمینان

                          کہا جاتا ہے کہ ایک شخص نے رومی فلسفی سے ملاقات کی۔ فلسفی نے اُسے اپنے دسترخوان پر مدعو کیا۔ جب وہ شخص شوربہ پینے ل...