Thursday, March 5, 2026

وہم واطمینان















                          کہا جاتا ہے کہ ایک شخص نے رومی فلسفی سے ملاقات کی۔ فلسفی نے اُسے اپنے دسترخوان پر مدعو کیا۔ جب وہ شخص شوربہ پینے لگا تو اس نے پیالے میں سانپ جیسی کوئی چیز دیکھی۔ لیکن شرمندگی کے مارے وہ پیتا رہا۔ گھر جا کر وہ اس بات سے پریشان رہا کہ آخر اس نے کیا پی لیا ہے۔


واقعی، رات کو اس کے پیٹ میں شدید درد شروع ہو گیا، جس نے اُس کی نیند اڑا دی۔ صبح ہوتے ہی وہ فلسفی کے پاس دوا کی تلاش میں پہنچا۔


مگر جب فلسفی نے اسے بتایا کہ شوربے میں کوئی سانپ نہیں تھا، بلکہ وہ تو چھت پر بنی ہوئی تصویر کا عکس تھا، اور یہ بات ثابت کرنے کے لیے اس نے دوبارہ شوربہ نکالا تو اُس میں بھی فوراً سانپ کا عکس نظر آیا، تو وہ حیران رہ گیا۔


یہ حقیقت جان کر اس کے پیٹ کا درد فوراً غائب ہو گیا۔ 


یعنی سانپ صرف اُس کے ذہن میں موجود تھا۔ وہم میں ایک عجیب طاقت ہوتی ہے، جو انسان کے اندر ایک محسوس ہونے والی حقیقت میں بدل سکتی ہے۔ 


اسی لیے ابنِ سینا نے کہا تھا:

"وہم آدھا مرض ہے، اطمینان آدھی دوا ہے، اور صبر شفا کی پہلی سیڑھی ہے۔"

📝

Thursday, October 9, 2025

سنہری انڈے


 

                                     ایک لڑکی نے اپنے دادا جی سے پوچھا، ”دادا آپ مجھے کیا سکھا سکتے ہیں جو میری زندگی میں مفید ہو؟"

دادا نے کہا، "ایک سبق سکھاتا ہوں، لیکن پہلے کچھ ایسا کرو جو سب کی توجہ حاصل کرے۔"

لڑکی نے پوچھا، "وہ کیا؟"

دادا نے کہا، ”محلے میں جا کر سب کو بتاؤ کہ میری شتر مرغ نے ٣ سنہری انڈے دیے ہیں اور میں کروڑ پتی بننے والی ہوں۔“

لڑکی نے ایسا ہی کیا، لیکن  ایک عاد بندے کے سوا کوئی مبارکباد دینے نہ آیا۔

اگلی صبح دادا نے کہا، ”اب جا کے بتاؤ کہ ایک چور آیا، شتر مرغ کو مار ڈالا اور سنہری انڈے چرا لیئے۔“

لڑکی نے ایسا کیا اور فوراً بہت سے لوگ ان کے گھر آ گئے۔

لڑکی نے پوچھا، ”دادا ، کل کوئی نہیں آیا، آج اتنے لوگ کیوں آئے؟“

دادا نے مسکرا کر کہا، ”جب لوگ اچھی خبر سنتے ہیں، تو خاموش رہتے ہیں۔ لیکن بری خبر سنتے ہی فوراً آتے ہیں۔

                                                                                                (رضوان)
     
                                      اس کہانی کی بدولت یہ بات پتہ چلی کہ ایک تو کچھ سیکھنے سے پہلے کچھ کرنا پڑتا ہے دوسرا اچھی خبر کی بجاۓ لوگ بری خبر پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور زیادہ دلچسبی دکھاتے ہیں
تیسرا بری خبر اچھی خبر سے زیادہ تیزپھیلتی ہے مثلََا اگر کسی نے ٩٩ نیکیاں کیں اور ایک براٸی تو لوگ شاٸد اس ایک براٸی کو زیادہ ہالاٸیٹhighlight کریں بدرجہ اُن نیکیوں کے اسلٸے لوگوں سے بہت زیادہ توقعات مت رکھیں۔کیونکہ ”توقعات کا پیالہ ہمیشہ ٹھوکروں کی زد میں رہتا ہے۔“

Saturday, September 20, 2025

کتّا اور خرگوش

 

           ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شکاری نے اپنے سدھاۓ ہوۓ کُتے کو خرگوش کا شکار کرنے کا (task)کام دیا۔ شکاری کتے نے خرگوش کا کافی دیر پیچھا (chases)کیا مگر خرگوش کو پکڑ نہ سکا تو کّتے نے پیچھا کرتے ہوۓ بھاگتے خرگوش سے پوچھا!


”ایک بات تو بتاٶ!


”تُمہاری ٹانگیں چھوٹی ہیں، 


اور میری لمبی، 

پھر بھی مَیں تُمہیں کیوں نہیں پکڑ سکا؟“ 


خَرگوش نےبھاگتے ہوۓ ہی شِکاری کُتَّے کو جواب دِیا، 


”کیونکہ! 


مَیں اپنے لئے بھاگ رہا ہُوں، 


اور تُم کِسی اور کے لیے بھاگ رہے ہو“۔

📝کیوریشن


                خرگوش اور شکاری کتّے کی کہانی سے کچھ باتیں پتہ چلیں 

ایک یہ کہ جان سب کو پیاری ہے۔ 

 دنیا میں جتنی بھی مخلوقات ہیں جیسا کہ چرند، پرند، حشرات الارض، انسان ان میں سے ہر دوسرا اپنی زندگی کو قاٸم رکھنے کی جستجو میں ہے۔ کوٸی کسی کو شکار کر رہا ہے تو کوٸی کسی کا شکار بن رہا ہے

دوسری یہ کہ کس نے کتنی کوشش کی، ناکہ کون کتنا طاقت ور ہے

اگر ہم ماحول کا جاٸزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ اللہ نے کتنی چھوٹی مخلوق سے بڑی مخلوق سے شکست دلواٸی، حالانکہ وہ طاقت و وساٸل میں ان سے کٸی گنا بڑی تھی بس اس کے لٸے کوشش اور وساٸل کا درست سمت میں ہونا شرط ہے۔

تیسری انمول چیز کے لٸے ہار نہ ماننا۔




 


               






تیسری اگر آپ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لٸے خرگوش نہیں بن سکتے تو دوسروں کے لہے کتّا بھی مت بنو۔

آواز اٹھانا مستقبل میں جنازے اٹھانے سے بہتر ہے۔




Thursday, September 4, 2025

سکون کہاں!


 








ایک بزرگ سے شاگرد نے سوال پوچھا

بتاٸیں انسان کا سکون کس چیز میں ہے ؟

اس بزرگ نے کہا” اگر کسی معاملے میں غفلت ہو جاۓ تو سجدے میں اور اگر گناء ہو جاۓ تو توبہ میں“


📝
                   اس بزرگ کی بات سے ہمیں یہ بات سمجھ آٸی کہ اگر کسی انسان سے غفلت ہو جاۓ یا گناہ  سرزد ہو جاۓ تو اللہ پاک کی طرف  رجوع کرے چونکہ انسان خطا کا پتلا ہے جانے انجانے کوٸی نہ کوٸی جرم ہو جاۓ تو اُس کریم رب سے مغفرت طلب کرے اور ڈھٹاٸی نہ دکھاۓ تو ضرور وہ بخشے گا اور انعام بھی دے گا اور اگر اس کے برعکس گناہ و زیادتی میں آگے بڑھتا جاۓ گا تو دنیا وآخرت میں سخت سزا ہو گی۔ اللہ پاک ہمیں سمجھ عطا کرے اور سیدھے راستے پر رکھے۔

Sunday, August 3, 2025

گدھا اور ریشمی چادر

 










                                حضرت شیخ عثمان حیری رحمتہ اللہ       علیہ ایک کھاتے پیتے او ر مالدار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک دفعہ آپ اپنی ریشمی چادر اوڑھ کر مدرسے جا رہے تھے (یہ آپ کی توبہ کے پہلے کا واقعہ ہے ورنہ ریشم پہننا مرد پر حلال نہیں) راستے میں آپکو ایک زخمی گدھا نظر آیا، جسکی پیٹھ پر کوّے زخم والی جگہ پر چونچیں مار رہے تھے ،آپ کو گدھے کی حالت پر بڑا رحم آیا، 

         آپ نے اپنی  ریشمی چادر گدھے کی زخم والے حصّے پر ڈال دی۔

یوں گدھے کو کوّٶں سے نجات مل گٸی۔ اُس گدھے نے اِن کی طرف دیکھا اور غالباََ دعا دی۔
           اگرچہ وہ دعا سننے کو نہ آٸی ، مگر اس سے شیخ عثمان حیری رحمتہ اللہ علیہ کی تقدیر بدل گٸی ، اور آپ بہت بڑے بزرگ بن کر اللّٰہ پاک کے نیک بندوں میں شمار ہونے لگے۔
📝         اس واقعے سے یہ بات سمجھ آٸی کہ صرف ایک جانور سے اچھا سلوک کی برکت سے ایک بندے کی تقدیر بدل گٸی ۔
       دوسرا یہ کہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو معمولی سمجھ کر چھوڑا نہ جاۓ ۔جیسا کہ حدیث نبوی صلى الله عليه واله وسلم کا مفہوم ہے کہ بنی اسراٸیل کی ایک عورت کو بلّی کو بھوکا پیاسا رکھ کر مارنے کی وجہ سے جھنم میں ڈال دیا گیا حالانکہ اسکے اعمال اچھے تھے۔ اور ایک گناہ گار شخص کو پیاسے کتّے کو پانی پلانے کی  وجہ سے بخش دیا گیا۔ اسلٸے چھوٹی سے چھوٹی نیکی و چھوٹے گناہ کو ہلکا نہ لیا جاۓ۔ کیا پتہ کس  شے  میں رب کی رضا و ناراضی ہو۔




          

           


Sunday, June 29, 2025

آزادی کی قیمت





 



                 ایک شخص نے کہیں سے طوطا پکڑااور اس کو اپنے ساتھ مانوس کرلیا وہ طوطے کو ایک خوبصورت نفیس پنجرے میں قید کرکے رکھتا۔وہ روز اس کو طرح طرح کی خوراکیں کھلاتا ۔ اور اسکی دیکھ بھال جان فشانی(محنت)سے کرتا۔

      ایک دن اس گھر کی منڈیر پر ایک اور طوطا آکر بیٹھا۔دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔قیدی طوطا بولا:’’ میرا مالک بہت اچھا ہے ۔وہ اپنے ہاتھوں سے مجھے چوری کھلاتاہے۔مجھے طرح طرح کے مربے اور پستے دیتاہے۔تم کیا زندگی گزاررہے ہو، تم جس درخت پر رہتے ہووہاں آندھی ، طوفان بھی آتاہے بارش بھی ہوتی ہے اور گرمی سردی سے کوئی حفاظت بھی نہیں۔تم میرے پاس آجاٶ بہت مزے میں رہو گے۔‘‘

           آزاد طوطا بولا:’’ تمھیں تمھاری یہ مزے بھری زندگی مبارک ہو دوست! یہ راحت نہیں بلکہ غلامی ہے اور میں اپنی آزادی ختم کرنے کے لٸے ہرگز تیار نہیں ہوں۔‘‘

    

   📝

           اس کہانی سے یہ بات پتہ چلی کہ آزادی وہی ہے جو اپنی بے جا و اندھی خواٸشوں کے پیچھے نہیں بھاگتا بلکہ اسکی زندگی سے وابستہ ہر اک کو اسکی حیثیت  کے مطابق اہمیت و ترجیح دیتا ہے مثلََا والدین ، بیوی بچے ، دوست احباب،رشتہ دار و پڑوسی وغیرہ۔
         کامیابی کا اصل مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی مرضی سے فیصلے لے سکیں جو شریعت و قانون سے نہ ٹکراٸیں۔
              اگرباپ اپنے وقت کا کامیاب ترین انسان ہے۔وہ دن بھر بڑی شخصیات کے ساتھ ساتھ میٹنگز کرتاہےاور بڑے بڑے اداروں کاوزٹ کرتاہے۔ رات کوجب گھر آتاہے تووہ تھکن سے چورچورہوتاہے ۔بیٹا اس کے انتظار میں ہوتاہے۔وہ باپ سے ملنا اوربات کرناچاہتاہے پر باپ کہتاہے :’’بیٹا!    I m sorry ۔میرے پاس ٹائم نہیں ہے کلtomorrow  بات کریں گے ۔میں بہت تھکاہواہوں ۔‘‘ملنے کی اُمید پر بیٹا صبح  اٹھتاہے تویہ جان کر اس کا دِل ٹوٹ جاتاہے کہ باپ تو اس کی آنکھ کھلنے سے  پہلے ہی آفس چلا گیا ہے۔آپ خود اندازہ لگائیں یہ کیسی کامیابی ہے؟ 


              

                      آجکل کے اس جدید دور میں جہاں موباٸیل کا استعمال بڑھ چکا ہے وہاں اگر آپ اپنی زندگی میں کچھ گھنٹے سونے کے علاوہ موباٸیل کے بغیر گزار سکتے ہیں تو اسکا مطلب ہے آپ کامیاب انسان ہیں😳
               آپ جس مخصوص خول میں بند ہیں اس سے نکل سکتے ہیں، اور ایک بہترین ذریعہ معاش اختیارکرکے اپنی زندگی کو خوشحال اور آزاد بناسکتے ہیں۔البتہ اس کے لیےضروری ہے کہ آپ اپنے سوچنے کے انداز کو بدلو۔ بقول اقبال
خودی کو کر بلند اتناکہ ہر تقدیر سےجاپہلے
                             خدا بندے سے خود پوچھے بتاتیری رضاکیا ہے
              آپ نے سنا ہوگا کہ دنیا کی مشہور اور کامیاب شخصیات اچانک کچھ دنوں کے لیے منظرعام سے غائب ہوجاتی ہیں۔درحقیقت یہ لوگ اصل زندگی جینا چاہتے ہیں اور اسی کی خاطر وہ سب کچھ چھوڑکر پہاڑوں اور جنگلوں کی سیر پر نکل جاتے ہیں تاکہ اپنی فطری آزادی کی تجدید کریں اورزندگی کا حقیقی لطف اٹھائیں۔

                          اگر اللہ نے آپکو سب کچھ دیا ہے تو مزید کی لالچ میں اتنا نہ بھاگیں بلکہ حقیقی آزادی کو جینے کی کوشش کریں۔
             اپنی آزادی پر کمپرومائز compromise مت کریں۔آپ اگر غریب زندگی گزاررہے ہیں تو ساری عمر آپ نے ایسے نہیں رہنا۔
 یادرکھیں !ہر وہ کامیابی جو آپ کو مشروط کردے ،جو آپ کوپابند بنادے ،وہ آزادی نہیں ، غلامی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کواس پر سوچنے کی ضرورت ہے             

                       اگر آپ سوچتے اور ہیں اور ہو جاتا اور ہے تو یہ آپ کی غلطی نہیں، یہ تقدیر کے فیصلے ہیں جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔


     

             

     

                              

        

وہم واطمینان

                          کہا جاتا ہے کہ ایک شخص نے رومی فلسفی سے ملاقات کی۔ فلسفی نے اُسے اپنے دسترخوان پر مدعو کیا۔ جب وہ شخص شوربہ پینے ل...