ایک شخص نے کہیں سے طوطا پکڑااور اس کو اپنے ساتھ مانوس کرلیا وہ طوطے کو ایک خوبصورت نفیس پنجرے میں قید کرکے رکھتا۔وہ روز اس کو طرح طرح کی خوراکیں کھلاتا ۔ اور اسکی دیکھ بھال جان فشانی(محنت)سے کرتا۔
ایک دن اس گھر کی منڈیر پر ایک اور طوطا آکر بیٹھا۔دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔قیدی طوطا بولا:’’ میرا مالک بہت اچھا ہے ۔وہ اپنے ہاتھوں سے مجھے چوری کھلاتاہے۔مجھے طرح طرح کے مربے اور پستے دیتاہے۔تم کیا زندگی گزاررہے ہو، تم جس درخت پر رہتے ہووہاں آندھی ، طوفان بھی آتاہے بارش بھی ہوتی ہے اور گرمی سردی سے کوئی حفاظت بھی نہیں۔تم میرے پاس آجاٶ بہت مزے میں رہو گے۔‘‘
آزاد طوطا بولا:’’ تمھیں تمھاری یہ مزے بھری زندگی مبارک ہو دوست! یہ راحت نہیں بلکہ غلامی ہے اور میں اپنی آزادی ختم کرنے کے لٸے ہرگز تیار نہیں ہوں۔‘‘
📝
اس کہانی سے یہ بات پتہ چلی کہ آزادی وہی ہے جو اپنی بے جا و اندھی خواٸشوں کے پیچھے نہیں بھاگتا بلکہ اسکی زندگی سے وابستہ ہر اک کو اسکی حیثیت کے مطابق اہمیت و ترجیح دیتا ہے مثلََا والدین ، بیوی بچے ، دوست احباب،رشتہ دار و پڑوسی وغیرہ۔
کامیابی کا اصل مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی مرضی سے فیصلے لے سکیں جو شریعت و قانون سے نہ ٹکراٸیں۔
اگرباپ اپنے وقت کا کامیاب ترین انسان ہے۔وہ دن بھر بڑی شخصیات کے ساتھ ساتھ میٹنگز کرتاہےاور بڑے بڑے اداروں کاوزٹ کرتاہے۔ رات کوجب گھر آتاہے تووہ تھکن سے چورچورہوتاہے ۔بیٹا اس کے انتظار میں ہوتاہے۔وہ باپ سے ملنا اوربات کرناچاہتاہے پر باپ کہتاہے :’’بیٹا! I m sorry ۔میرے پاس ٹائم نہیں ہے کلtomorrow بات کریں گے ۔میں بہت تھکاہواہوں ۔‘‘ملنے کی اُمید پر بیٹا صبح اٹھتاہے تویہ جان کر اس کا دِل ٹوٹ جاتاہے کہ باپ تو اس کی آنکھ کھلنے سے پہلے ہی آفس چلا گیا ہے۔آپ خود اندازہ لگائیں یہ کیسی کامیابی ہے؟
آجکل کے اس جدید دور میں جہاں موباٸیل کا استعمال بڑھ چکا ہے وہاں اگر آپ اپنی زندگی میں کچھ گھنٹے سونے کے علاوہ موباٸیل کے بغیر گزار سکتے ہیں تو اسکا مطلب ہے آپ کامیاب انسان ہیں😳
آپ جس مخصوص خول میں بند ہیں اس سے نکل سکتے ہیں، اور ایک بہترین ذریعہ معاش اختیارکرکے اپنی زندگی کو خوشحال اور آزاد بناسکتے ہیں۔البتہ اس کے لیےضروری ہے کہ آپ اپنے سوچنے کے انداز کو بدلو۔ بقول اقبال
خودی کو کر بلند اتناکہ ہر تقدیر سےجاپہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتاتیری رضاکیا ہے
آپ نے سنا ہوگا کہ دنیا کی مشہور اور کامیاب شخصیات اچانک کچھ دنوں کے لیے منظرعام سے غائب ہوجاتی ہیں۔درحقیقت یہ لوگ اصل زندگی جینا چاہتے ہیں اور اسی کی خاطر وہ سب کچھ چھوڑکر پہاڑوں اور جنگلوں کی سیر پر نکل جاتے ہیں تاکہ اپنی فطری آزادی کی تجدید کریں اورزندگی کا حقیقی لطف اٹھائیں۔
اگر اللہ نے آپکو سب کچھ دیا ہے تو مزید کی لالچ میں اتنا نہ بھاگیں بلکہ حقیقی آزادی کو جینے کی کوشش کریں۔
اپنی آزادی پر کمپرومائز compromise مت کریں۔آپ اگر غریب زندگی گزاررہے ہیں تو ساری عمر آپ نے ایسے نہیں رہنا۔
یادرکھیں !ہر وہ کامیابی جو آپ کو مشروط کردے ،جو آپ کوپابند بنادے ،وہ آزادی نہیں ، غلامی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کواس پر سوچنے کی ضرورت ہے
اگر آپ سوچتے اور ہیں اور ہو جاتا اور ہے تو یہ آپ کی غلطی نہیں، یہ تقدیر کے فیصلے ہیں جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

No comments:
Post a Comment