Wednesday, December 11, 2024

کاش




  









           


                    ایک خاتون نے اپنی دکھ بھری داستان بیان کرتے ہوٸے کہتی ہیں ایک دن صبح میں اپنے گھر کی صفاٸی میں مصروف تھی کہ  میرا بیٹا آیا أور کمرے میں چلا گیا اور شو کیس والی الماری پر چڑھنے لگا دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک شاہکار تحفہ ہاتھ میں پکڑ لیا۔شاید بھاری ہونے کی وجہ سے اس سے وہ تحفہ چھوٹ کر گرا اور ٹوٹ گیا۔ بدحواسی میں میرے منہ سے نکلا”خدا ایسی دیوار گراٸے جو تیری ہڈیاں توڑ دے“۔

                                         کیونکہ یہ تحفہ بہت مہنگا اور قیمتی تھا اور مجھے بہت عزیز تھا کیونکہ میری ماں نے مجھے جہیز میں دیا تھا وہ خاتون کہتیں ہیں  اس واقعے کو سالوں گزر گٸے اور میں اس بدعا کو بھول چکی تھی اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ قبول ہو جاٸے گی۔ میرا یہ بیثأ اپنے بہن بھاٸیوں کے ساتھ پلا بڑھا اور بیٹوں میں مجھے بہت پیارا تھا اور میں اسکو ہوا لگنے سے بھی ڈرتی تھی اس نے اعلٰی تعلیم حاصل کی اور ملازمت أخیار کی اور میں اس کے لٸے بیوی لانے کی تلاش میں تھی اسکے والد ایک پرانی عمارت کی ملکیت تھی وہ اسے گرا کر نٸی تعمیر کرنا چاھتے تھے

                                    جس دن عمارت کو گرانا تھا میرا یہ بیٹا بھی والد کے ساتھ گیا مزدور عمارت کو گرانے کی تیاریوں میں تھے اور کام کے دوران یہ والد سے دور ہوگیا اور مزدوروں نے اسے نوٹ نہیں کیا، اور ایک دیوار اس کے اوپر گر گٸی۔

                                 وہ عورت کہتیں ہیں ”کاش میں اُس دن گونگی ہو گٸی ہوتی اور بدعا نہ دیتی“۔ میرا بیٹا چیخا اور اُس کی آواز بند ہوگٸی۔ مزدور بھی رک گٸے اور ساری صورتحال دیکھ کر پریشان اور ڈر گٸے۔

کاش میں گونگی ہوجاتی اور اس کو بد دعا نہ دیتی“۔

میرا بیٹا چیخا اور پھر اس کی آواز غائب ہوگئی۔  کارکن رک گئے اور سب پریشان اور خوف زدہ ہو گئے!!۔ انہوں نے بڑی ہی مشکل سے اس کے اوپر سے دیوار ہٹاٸی, ایبولینس آٸی اور اسے اٹھانے کے لٸے آگے بڑھے پر اس کا سارا جسم شیشے کی طرح ٹوٹ چکا تھا اور اٹھانے کے قابل نہ رہا۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اسے اٹھایا اور ایمرجنسی لے گٸے

                                   

        اور جب اس کے والد نے مجھے خبردی تو میں بے ہوش ہو گئی اور جب مجھے ہوش آیا تو گویا اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کے سامنے وہ گھڑی بحال کر دی ہو جب میں نے بچپن میں کئی سال پہلے اس کے لیے بددعا کی تھی اور مجھے وہ بددعا یاد آ گئی۔ ، اور میں روتی رہی اور روتی رہی یہاں تک کہ میں دوبارہ ہوش کھو بیٹھی، جب ہسپتال میں مجھے ہوش ہوا، تو میں نے اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے کہا۔

میں نے اسے دیکھا، اور کاش میں نے اسے اس حالت میں نہ دیکھا ہوتا!

ان لمحوں میں دل کی دھڑکن رک گئی اور میرے بیٹے نے آخری سانس لی۔

میں نے روتے ہوئے کہا:

”کاش اسے نٸی زندگی مل جاٸے، گھر کے سبھی فن پاروں کو توڑ دے، پر میں اس کو نہ کھوٶں

کاش کاش کاش، لیکن کاش لفظ کا وقت پورا ہو چکا تھا!



اضافی کمینٹری 
اپنے دل سے وعدہ کریں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے کامیابی اور رہنمائی کے لیے دعا کریں، ان کو بددعا نہ دیں۔

پنے بچوں کوغصے میں بددعا کرنے میں جلدی نہ کریں۔شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگیں

ایک شخص عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ کے پاس اپنے بیٹے کی نافرمانی کی شکایت کرنے آیا!!
ابن مبارک نے اس سے پوچھا:” کیا تم نے اس کے لیے بددعا کی؟“
اس نے کہا: ”ہاں“
فرمایا : ”جاؤ، تم نےہی اسے خراب کر دیا ہے“۔

اور جب بھی آپ اپنے بچوں کو خوش ہوتے اور کھیلتے ہوئے پائیں تو ان کے لیے یہ دعا مانگیں:

اور جان لیں کہ اپنے بچوں کے لیے بددعا کرنے سے ان میں فساد، ضد اور نافرمانی ہی بڑھ جاتی ہے۔
اس نافرمانی کی شکایت کرنے والے سب سے پہلے آپ ہیں جنہوں نے ان کے لیے بددعا کرنے میں جلدی کی۔

”اے اللہ، میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ انہیں جنت میں خوش رکھ، جیسا کہ تونے انہیں دنیا میں  خوش رکھاہے“۔


No comments:

Post a Comment

وہم واطمینان

                          کہا جاتا ہے کہ ایک شخص نے رومی فلسفی سے ملاقات کی۔ فلسفی نے اُسے اپنے دسترخوان پر مدعو کیا۔ جب وہ شخص شوربہ پینے ل...