ایک عورت اپنے گونگے بہرے بیٹے کو لےکر پیارے نبی محمد صلى الله عليه واله وسلم کی خدمت میں حاضر ہوٸی ، اور اپنے بیٹے کی شفا کے لٸے عرض گزار ہوٸی کہ یہ مجھ بوڑھی کا واحد سہارا ہے اس کی معزوری دور فرما دیں۔ آپ صلى الله عليه واله وسلم نے بچے سے فرمایا ”یا ولّدولّد “ بچہ بول اٹھا” لبیک یا رسول اللہ“
اپنے بیٹے کو سنتا بولتا د
یکھ کر بڑھیا بہت خوش ہوٸی
اضافی کمینٹری
یہ معجزہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبیوں و رسولوں کو کاٸنات میں تصرف کی اجازت ہے۔ اور نبی و رسول کو ان کے حالات کے مطابق معجزات عطا ہوۓ
مثال کے طور پر حضرت صالح علیہ السلام کو ان کی قوم کی ڈیمانڈ Demand پر اونٹنی کا معجزہ عطا ہوا ، اسی طرح حضرت موسٰی علیہ السلام کو عصّا و ید بیضا کا اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کو کوڑیوں کو ٹھیک کرنے ،مادر زاد اندھوں کو بیناٸی دینا ، مُردوں کو زندہ کرنے ، اور بنی اسراٸیلی گھروں میں جو کچھ چھپا کر رکھتے انہیں بتا دیتے۔اسکے علاوہ اور انبیاء علیہ السلام کو بھی درجنوں معجزے عطا ہوٸے۔
ہمارےنبی آخری زماں محمد صلى الله عليه واله وسلم کو بھی اللّٰہ پاک کی عطا سے سب انبیاء کے معجزات سے زیادہ معجزات عطا ہوۓ۔ جو سیرت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتے ہیں۔ جن میں چند کا زکر کرتا ہوں۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کی آنکھ جنگ میں ضاٸع ہوٸی تو وہ دوبارہ ٹھیک کردی.
سفر کے دوران پانی ختم تھا تو آپ صلى الله عليه واله وسلم نے انگلیوں سے چشمے جاری کیے۔ جو ١٤٠٠ صحابہ کو کافی ہو گیا۔
ایک صحابی کی جنگ کے دوران پنڈلی ٹوٹی تو وہ جوڑ دی۔
ایک صحابی رضی اللہ عنہ کی جنگ میں تلوار ٹوٹی تو انہیں ایک لکڑی عطا کی جو دوران جنگ تلوار بن گٸی دو صحابی رضی اللہ عنہ کو گھر پہنچنے کے لۓ رات میں روشنی کی ضرورت پڑی تو انہیں لکڑی دی جو روشن ہو گٸی اور صحابہ اسکی روشنی میں گھر پہنٍچ گٸے۔
انبیاء و مرسل، صحابہ، اولیاء اللہ سب کو اللّٰہ پاک کی طرف سے مقام عطا ہوتا ہے۔ اگر کوٸی عام بندہ یہ چاھے کہ مجھے فلاں مقام عبادت و ریاضت سے مل جاۓ تو ایسا ممکن نہیں۔ ربّ جسے چنے وہی اسکا اہل ہے۔
جیسا کہ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ
صحابی کا مٹھی بھر صدقہ عام امتی کے اُحد پہاڑ سے افضل ہے۔
اورصحابہ میں سب ًشامل ہیں آل، اولاد، ازواج وغیرہ. جنوں نے ایمان کی حالت میں آخری نبی محمد صلى الله عليه واله وسلم کی صحبت پاٸی۔

No comments:
Post a Comment