ایک دفعہ کا زکر ہے کہاایک مینڈک اور چوٸے میں دوستی ہو گٸی۔ دونوں روزانہ نہر کنارے ملتے اور ایک دوسرے کی خبر گیری کرتے،دن یونہی گزر رہے تھے ،ایک دن مینڈک نے کہا اگر میں نے تمہیں بلانا ہو تو کوٸی ایسا طریقہ ہوکے بوقت ضرورت دونوں ایک دوسرے سے مل سکیں ،اگر ہم ایک دوسرے کےساتھ اپنی ایک ایک ٹانگ باندھ لیں،اگر تم دھاگہ ہلاٶ تو مجھے خبر ہو جاۓ اورمیں دھاگہ ہلاٶں تو تم نہر سے باہرآجانا،
چناچہ جب مینڈک کو بلانا ہوتا تو دھاگہ ہلاتا چوٸا پہنچ جاتا اور اسی طرح جب چوٸے کو بلانا ہوتا تو نہر کنارے پہنچ جاتا اور اپنی ٹانگ سے بندھے دھاگے کو ہلانے پر مینڈک باہر آجاتا۔
ا ایک دن چیل نے چپکے سے چوۓ کو دبوچ لیااورہوامیں اڑنے لگاسو مینڈک بھی دھاگے سے ٹانگ بندھ جانے کی وجہ سےہوا میں بلند ہو گیا اور چوۓ کیساتھ بلا وجہ مارا گیا
📝نصیحت
اسلٸے کہتے ہیں نادان کی ہر بات نہ ماننا بہتر ہے۔

No comments:
Post a Comment