Tuesday, December 31, 2024

معجزہ رسول محمد صلى الله عليه واله وسلم



                                   




















                               ایک عورت اپنے گونگے بہرے بیٹے کو لےکر پیارے نبی محمد صلى الله عليه واله وسلم کی خدمت میں حاضر ہوٸی ، اور اپنے بیٹے کی شفا کے لٸے عرض گزار ہوٸی کہ یہ مجھ بوڑھی کا واحد سہارا ہے اس کی معزوری دور فرما دیں۔ آپ  صلى الله عليه واله وسلم نے بچے سے فرمایا ”یا ولّدولّد “ بچہ بول اٹھا” لبیک یا رسول اللہ“
اپنے بیٹے کو سنتا بولتا د


یکھ کر بڑھیا بہت خوش ہوٸی

اضافی کمینٹری

            یہ معجزہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبیوں و رسولوں کو کاٸنات میں تصرف کی اجازت ہے۔ اور نبی و رسول کو ان کے حالات کے مطابق معجزات عطا ہوۓ

مثال کے طور پر حضرت صالح علیہ السلام کو ان کی قوم کی ڈیمانڈ Demand پر اونٹنی کا معجزہ عطا ہوا ، اسی طرح حضرت موسٰی علیہ السلام کو عصّا و ید بیضا کا اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کو کوڑیوں کو ٹھیک کرنے ،مادر زاد اندھوں کو بیناٸی دینا ، مُردوں کو زندہ کرنے ، اور بنی اسراٸیلی گھروں میں جو کچھ چھپا کر رکھتے انہیں بتا دیتے۔اسکے علاوہ اور انبیاء علیہ السلام کو بھی درجنوں معجزے عطا ہوٸے۔

              ہمارےنبی آخری زماں محمد صلى الله عليه واله وسلم کو بھی اللّٰہ پاک کی عطا سے سب  انبیاء کے معجزات سے زیادہ معجزات عطا ہوۓ۔ جو سیرت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتے ہیں۔ جن میں چند کا زکر کرتا ہوں۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کی آنکھ جنگ میں ضاٸع ہوٸی تو وہ دوبارہ ٹھیک کردی.

           سفر کے دوران پانی ختم تھا تو آپ صلى الله عليه واله وسلم نے انگلیوں سے چشمے جاری کیے۔ جو ١٤٠٠ صحابہ کو کافی ہو گیا۔

            ایک صحابی کی جنگ کے دوران پنڈلی ٹوٹی تو وہ جوڑ دی۔ 

           ایک صحابی رضی اللہ عنہ کی جنگ میں تلوار ٹوٹی تو انہیں ایک لکڑی عطا کی جو دوران جنگ تلوار بن گٸی                  دو صحابی رضی اللہ عنہ کو گھر پہنچنے کے لۓ رات میں روشنی کی ضرورت پڑی تو انہیں لکڑی دی جو روشن ہو گٸی اور  صحابہ اسکی روشنی میں گھر پہنٍچ گٸے۔



              انبیاء و مرسل، صحابہ، اولیاء اللہ سب کو اللّٰہ پاک کی طرف سے مقام عطا ہوتا ہے۔ اگر کوٸی  عام بندہ یہ چاھے کہ مجھے فلاں مقام عبادت و ریاضت سے مل جاۓ تو ایسا ممکن نہیں۔ ربّ جسے چنے وہی اسکا اہل ہے۔

          جیسا کہ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ

 صحابی کا مٹھی بھر صدقہ عام امتی کے اُحد پہاڑ سے افضل ہے۔

            اورصحابہ میں سب ًشامل ہیں آل، اولاد، ازواج وغیرہ. جنوں نے ایمان کی حالت میں آخری نبی محمد صلى الله عليه واله وسلم  کی صحبت پاٸی۔


              


Saturday, December 21, 2024

بھکاری عورت اور نوجوان


 ایک بوڑھی عورت مسجد کے سامنے بھیک   

 مانگا کرتی تھی۔ایک شخص روز اسے بھیگ مانگتے دیکھتا

کیوریشن/اضافی کمینٹری

 ایک دن اُس شخص نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ کا کوئی بیٹا کمانے کے قابل نہیں ہے؟

تو اس بوڑھی عورت نے جواب دیا  کہ” ھےتو“

نوجوان بولا ”تو پھر آپ یہاں کیوں بھیک مانگ رہی ہیں؟“

 بوڑھی عورت نے کہا کہ ”میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے۔

 میرا بیٹا نوکری کے لئے بیرون ملک گیا تھا۔  جاتے ہوئے اخراجات کے لئے مجھے کچھ رقم دے کر گیا تھا ، 

وہ خرچ ہوچکی ہے اب میں کیا کھاٶں،

 اسی وجہ سے میں بھیک مانگ رہی ہوں۔ 

 اس شخص نے پوچھا - ”کیا آپ کا بیٹا آپ کو کچھ نہیں بھیجتا ہے؟“

 بوڑھی عورت نے کہا ”میرا بیٹا ہر ماہ رنگ برنگے کاغذ بھیجتا ہے جسے میں گھر میں دیوار پر چپکا کر رکھتی ہوں۔“ 

 وہ شخص بولا  مجھے اپنے گھر لے چلیں میں رنگ برنگ کے کاغز دیکھنا چاہتا ہوں“ اور دیکھا کہ دیوار پر بینک کے 60 ڈرافٹ چسپاں کردیئے گئے ہیں۔  

ہر ڈرافٹ  50،000 روپے کا تھا۔  

تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے ، وہ عورت نہیں جانتی تھی کہ اس کے پاس کتنی دولت ہے۔ 

 اس شخص نے اسے ڈرافٹ کی اہمیت سمجھا دی تو وہ عورت بہت خوش بھی ہوئی اور حیران بھی ہوئی اور پریشان بھی ہوئی کہ دولت ہوتے ہوئے بھی وہ بھیک مانگتی رہی ہے.

 

کیا ہماری حالت بھی اس بوڑھی عورت کی طرح ہے 

 ہمارے پاس قرآن ہے  اور ہم اسے اپنے منہ سے چومتے اور ماتھے پر لگا کر اپنے گھر سجھاتے ہیں بس ۔ پر اس سے پڑھ کر ہدایت نہیں لیتے ۔

حدیث نبوی محمد صلى الله عليه واله وسلم ہے ” تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھاٸے“

رزق


 رزق کو حاصل کرنے کا زریعہ

اضافی کمینٹری/
اس واقعے سے یہ سبق ملا کہ رزق کمانے کے دو راستے ہیں یہ اب بندہ پر ہے کہ وہ صحیح کو اختیار کرتا ہے یا غلط کو ۔ اگر بندہ تھوڑا صبر کر لے اور صحیح کا اختیار کرے تو اس کو دنیا و آخرت میں شرمندگی نہ ہو۔ 


Wednesday, December 11, 2024

کاش




  









           


                    ایک خاتون نے اپنی دکھ بھری داستان بیان کرتے ہوٸے کہتی ہیں ایک دن صبح میں اپنے گھر کی صفاٸی میں مصروف تھی کہ  میرا بیٹا آیا أور کمرے میں چلا گیا اور شو کیس والی الماری پر چڑھنے لگا دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ایک شاہکار تحفہ ہاتھ میں پکڑ لیا۔شاید بھاری ہونے کی وجہ سے اس سے وہ تحفہ چھوٹ کر گرا اور ٹوٹ گیا۔ بدحواسی میں میرے منہ سے نکلا”خدا ایسی دیوار گراٸے جو تیری ہڈیاں توڑ دے“۔

                                         کیونکہ یہ تحفہ بہت مہنگا اور قیمتی تھا اور مجھے بہت عزیز تھا کیونکہ میری ماں نے مجھے جہیز میں دیا تھا وہ خاتون کہتیں ہیں  اس واقعے کو سالوں گزر گٸے اور میں اس بدعا کو بھول چکی تھی اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ قبول ہو جاٸے گی۔ میرا یہ بیثأ اپنے بہن بھاٸیوں کے ساتھ پلا بڑھا اور بیٹوں میں مجھے بہت پیارا تھا اور میں اسکو ہوا لگنے سے بھی ڈرتی تھی اس نے اعلٰی تعلیم حاصل کی اور ملازمت أخیار کی اور میں اس کے لٸے بیوی لانے کی تلاش میں تھی اسکے والد ایک پرانی عمارت کی ملکیت تھی وہ اسے گرا کر نٸی تعمیر کرنا چاھتے تھے

                                    جس دن عمارت کو گرانا تھا میرا یہ بیٹا بھی والد کے ساتھ گیا مزدور عمارت کو گرانے کی تیاریوں میں تھے اور کام کے دوران یہ والد سے دور ہوگیا اور مزدوروں نے اسے نوٹ نہیں کیا، اور ایک دیوار اس کے اوپر گر گٸی۔

                                 وہ عورت کہتیں ہیں ”کاش میں اُس دن گونگی ہو گٸی ہوتی اور بدعا نہ دیتی“۔ میرا بیٹا چیخا اور اُس کی آواز بند ہوگٸی۔ مزدور بھی رک گٸے اور ساری صورتحال دیکھ کر پریشان اور ڈر گٸے۔

کاش میں گونگی ہوجاتی اور اس کو بد دعا نہ دیتی“۔

میرا بیٹا چیخا اور پھر اس کی آواز غائب ہوگئی۔  کارکن رک گئے اور سب پریشان اور خوف زدہ ہو گئے!!۔ انہوں نے بڑی ہی مشکل سے اس کے اوپر سے دیوار ہٹاٸی, ایبولینس آٸی اور اسے اٹھانے کے لٸے آگے بڑھے پر اس کا سارا جسم شیشے کی طرح ٹوٹ چکا تھا اور اٹھانے کے قابل نہ رہا۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اسے اٹھایا اور ایمرجنسی لے گٸے

                                   

        اور جب اس کے والد نے مجھے خبردی تو میں بے ہوش ہو گئی اور جب مجھے ہوش آیا تو گویا اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کے سامنے وہ گھڑی بحال کر دی ہو جب میں نے بچپن میں کئی سال پہلے اس کے لیے بددعا کی تھی اور مجھے وہ بددعا یاد آ گئی۔ ، اور میں روتی رہی اور روتی رہی یہاں تک کہ میں دوبارہ ہوش کھو بیٹھی، جب ہسپتال میں مجھے ہوش ہوا، تو میں نے اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے کہا۔

میں نے اسے دیکھا، اور کاش میں نے اسے اس حالت میں نہ دیکھا ہوتا!

ان لمحوں میں دل کی دھڑکن رک گئی اور میرے بیٹے نے آخری سانس لی۔

میں نے روتے ہوئے کہا:

”کاش اسے نٸی زندگی مل جاٸے، گھر کے سبھی فن پاروں کو توڑ دے، پر میں اس کو نہ کھوٶں

کاش کاش کاش، لیکن کاش لفظ کا وقت پورا ہو چکا تھا!



اضافی کمینٹری 
اپنے دل سے وعدہ کریں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے کامیابی اور رہنمائی کے لیے دعا کریں، ان کو بددعا نہ دیں۔

پنے بچوں کوغصے میں بددعا کرنے میں جلدی نہ کریں۔شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگیں

ایک شخص عبداللہ بن المبارک رحمہ اللہ کے پاس اپنے بیٹے کی نافرمانی کی شکایت کرنے آیا!!
ابن مبارک نے اس سے پوچھا:” کیا تم نے اس کے لیے بددعا کی؟“
اس نے کہا: ”ہاں“
فرمایا : ”جاؤ، تم نےہی اسے خراب کر دیا ہے“۔

اور جب بھی آپ اپنے بچوں کو خوش ہوتے اور کھیلتے ہوئے پائیں تو ان کے لیے یہ دعا مانگیں:

اور جان لیں کہ اپنے بچوں کے لیے بددعا کرنے سے ان میں فساد، ضد اور نافرمانی ہی بڑھ جاتی ہے۔
اس نافرمانی کی شکایت کرنے والے سب سے پہلے آپ ہیں جنہوں نے ان کے لیے بددعا کرنے میں جلدی کی۔

”اے اللہ، میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ انہیں جنت میں خوش رکھ، جیسا کہ تونے انہیں دنیا میں  خوش رکھاہے“۔


Saturday, December 7, 2024

✨حالت حاضرہ پر نصیحت آمیز تحریر


نسیبو کے ماں باپ نے بڑے لاڈ پیار سے اسکی پرورش کی ۔ ہر ضد پوری کی پھر جب وہ جوان ہوئی تو والدین کی رضا مندی کے بغیر کالج کی بس کے ڈرائیور سے خفیہ نکاح کر لیا، باپ کو جب پتہ چلا تو بیٹی نے صاف صاف کہدیا۔


"میرا نکاح ہو چکا ھے، بہتر یہی ھے کہ آپ اپنے ہاتھوں مجھے رخصت کر دیں ورنہ میں خود ان کے پاس چلی جاؤں گی!

       باپ نے کہا کہ اگر آپ کا یہ حتمی فیصلہ ھے تو آپ نے گھر سے جو کچھ لینا ھے لے لو اور خود ہی اپنے شوہر کے پاس چلی جاؤ، لیکن یہ یاد رکھنا، اب آپ کا ہم سے اور ہمارا آپ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔آپ ہمارے لئے مر گئی اور ہم تمھارے لہے ۔

   وہ خوشی خوشی سامان پیک کر کے اپنے شوہر کے پاس چلی گئی۔ تقریبا آٹھ سال بعد اسکی ملاقات ایک قریبی عزیز سے ہوئی اور وہ اسے اپنے گھر لے آیا۔

خیر خیریت دریافت کرنے کے دوران اس نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ وہ سمجھا کہ شاید گھر کے حالات صحیح نہیں ہوں گے۔ والدین کی نافرمانی اور جدائی کا پچھتاوا اسے رُلائے جا رہا ہوگا۔ تمام گھر والے اسے دلاسے دینے لگے اور رونے کیوجہ دریافت کرنے لگے۔ بہت اصرار کے بعد اس نے رونے کی وجہ بتائی، تو وہ کہنے لگی

میں نے والدین کی نافرمانی کی، ان سے تمام تعلقات ختم کردیے۔ اسکا پچھتاوا تو مجھے ساری زندگی رھے گا۔ مالی لحاظ سے بھی مجھے کوئی پریشانی نہیں ھے۔ اللہ کا دیا سب کچھ ھے۔

لیکن میرے لئے جو سب سے زیادہ تکلیف دہ بات ہے وہ کچھ اور ہے میری صرف ایک ہی بیٹی ہے میرے شوہر جب نماز پڑھنے کے بعد دعا مانگتے ہیں تو میں نے چپکے سے کئی بار انکی دعا سُنی ہے وہ روتے ہوئے اور گِڑگڑاتے ہوئے اللہ پاک سے صرف ایک ہی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں۔

یا اللہ !! میری بیٹی اپنی ماں پہ نہ جائے،

یا اللہ !! یہ اپنی ماں کیطرح گھر سے بھاگ کے کبھی شادی نہ کرے۔ یہ اپنی ماں کیطرح اپنے والدین کی عزت کو کبھی رسوا نہ کرے۔۔۔۔


               اگر اپنے اولاد کو دنیوی تعلیم کے ساتھ دینی نہ دلواٸی جاٸے تو وہ شاٸد ایسی حماقت کر گزریں۔ اپنی اولاد سے counseling یعنی بات چیت ، حال احوال پوچھتے رہیں اور جہان تک والدین کے لٸے ممکن ہو انہیں حلال رزق ہی کھلاٸیں۔ باقی جو مرضی رب کی اس پر راضی رہیں۔

Thursday, December 5, 2024

خوف،اور سکون





دو دوستوں کو دریا کی سیرکا شوق تھا، چنانچہ ایک دِن انھوں نے پروگرام بنایا ، وہ دریا کے کنارے جاپہنچے اور ایک ملاح سے کرایہ طے کرکے کشتی میں بیٹھ گئے۔کشتی چل پڑی اور وہ آپس میں گپ شپ کرتے ہوئے دریا کی روانی اور آسمان میں اُڑتے پرندوں سے لطف اندو زہونے لگے ۔ 

         

       ایک دوست باتونی قسم کا تھا، اس نے ایک نظر اپنے کام میں مصروف ملاح پر ڈالی اور اس کی طرف متوجہ ہوکر پوچھا۔’’چاچاجی آپ یہ کام کب سے کررہے ہیں؟‘‘ ملاح بولا:’’ہم خاندانی ملاح ہیں۔میرا دادا بھی ملاح تھابلکہ اُس کا توانتقال بھی اِسی دریا کے پانی میں ہوا تھا۔‘‘’’اچھا!وہ کیسے؟‘‘ مسافر نے افسوس اور تجسس سے ملے جلے لہجے میں کہا۔’’ایک دِن کشتی کی پتوار ٹھیک کرتے ہوئے اس کا پاؤں پھسلا اوروہ پانی میں جاگرا۔ بدقسمتی سے اُس دِن طغیانی بھی آئی ہوئی تھی ، اس نے کافی دیر تک ہاتھ پاؤں مارے لیکن بچانے والا کوئی نہیں تھا ، چنانچہ دو دِن بعد اس کی لاش ملی۔‘‘ ’’اوہ! یہ تو بڑے افسوس کی بات ہے‘‘ مسافر پریشان ہوا لیکن اپنی باتونی طبیعت سے مجبور ہوکر ایک اور سوال پوچھ بیٹھا۔’’اور آپ کا والد؟‘‘ ’’وہ بھی ملاح تھا اور اسی دریا میں ڈوب کر فوت ہوا۔‘‘ملاح کا جواب سن کر مسافر اور بھی رنجیدہ ہوا اور پھر بولا:’’جب یہ اس قدر خطرناک پیشہ ہے تو پھر اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے"؟


ملاح نےدور آسمان کی طرف دیکھا ، ایک لمباسانس لیا اور پھر مسافر سے مخاطب ہوکر بولا:’’اچھا مشورہ ہے مگر ایک سوال میرا بھی ہے۔‘‘ جی جی پوچھیں چاچاجی“ مسافر نے باچھیں پھیلاتے ہوئے کہا۔’’یہ بتاٶ کہ تمھارے دادا کہاں فوت ہوئے تھے؟‘‘ ملاح نے پہلا سوال داغا۔مسافر نے کچھ دیر سوچا اور پھر بولا:’’وہ چارپائی پر فوت ہوئے تھے۔ا ن کی عمر کافی ہوچکی تھی ، آخری دِنوں میں بیماری شدت اختیار کرگئی تھی ، کافی علاج کروایا لیکن افاقہ نہ ہوا اور بالآخر وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔‘‘ ’’ھممم‘‘ ملاح نے سرہلایا اوردوسرا سوال پوچھا۔’’اور تمھارے والد؟‘‘ مسافر کچھ ڈگمگایا، کیونکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ ملاح اس کو گھیررہا ہے مگر جواب تو دینا ہی تھا ،سو وہ بولا:’’وہ بھی اپنے باپ کی طرح چارپائی پر فوت ہوئے تھے ۔‘‘ ملاح نے غصے سے کہا:’’جب چارپائی اس قدر خطرناک چیز ہے تو پھر اس کواُٹھاکر پھینک کیوں نہیں دیتے!!‘‘

تحریر :                                                                       قاسم علی شاہ


📝کیوریشن

                           یہ کہانی ہے تو کافی پرانی لیکن یہ ایک بہترین نکتے کو بیان کرتی ہے کہ اِس دنیا میں اگر صحیح طریقے سے زندگی گزارنی ہے تو اپنے ڈر اور خوف کو کنٹرول control کرنا ہوگا۔ 

             ایک فطری چیز کو اس سوچ کے ساتھ  زبردستی جوڑ دینا کہ اس کی وجہ سے تو فلاں کی جان چلی گئی تھی عقل مندی کی علامت نہیں، کیونکہ اگرسارے انسان اسی سوچ کے مطابق زندگی گزارنے لگ جاٸیں تو پھر دنیاکا نظام ہی نہیں چلے گا۔


                       انسان جن جذبات و احساسات کے ساتھ پیدا ہوتا ہے ان میں ایک خوف بھی ہے،لیکن ریسرچ یہ بتاتی ہے کہ انسان فطری طورپر صرف دوچیزوں سے ڈرتا ہے ان میں سے ایک تیزآواز اور دوسری اونچائی سے نیچے دیکھ کرخوفزدہ ہونا ہے ، اس کے علاوہ باقی خوف والدین ، ماحول اور لوگوں کے پیدا کردہ ہوتے ہیں۔

             خوف اس قدر خطرناک چیز ہے کہ یہ انسان کی ساری شخصیت کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے ۔یہ سب سے پہلے انسان کے اعتماد کو ختم کرتا ہے مثلاََ اگر آپ نے گاڑی چلانا سیکھنی ہے اور آپ نے دو تین ایکسڈنٹ accident بھی دیکھے ہیں تو آپ کو بھی یہ خوف ہو گا کہ میرے ساتھ بھی یہی ہو گا اور پھراچھا بھلا ، مضبوط انسان بھی اعتماد سے محروم ہوجاتا ہے۔دوسرا انسان کی عزت نفس کو بھی ختم کردیتا ہے یہ اس کے اندر پلتے حوصلوں اور عزائم کو ماند(کمزور) کردیتا ہے اور انسان نے اپنی زندگی کو شان دار بنانے کے لیے جو بڑے بڑے خواب دیکھے ہوتے ہیں ، ان کوپانے میں ایک بڑی رُکاوٹ بن جاتا ہے۔


          انسان کے اندر موجود چند خوف تو وہ ہوتے ہیں جو والدین اپنی لاعلمی کی بناء پر بچپن میں اس کے زہن میں ڈال دیتے ہیں۔جیسے کسی جاندار، درندے ، مخصوص نام یا پھر کوئی فرضی کردار.


      بچپن کے اس خوف پر بروقت قابو نہ پالیاجائے تو پھر بڑی عمر کا ہوکر بھی انسان اعتماد اور دلیری سے محروم رہتا ہے۔انسان کی اسی کمزوری کا فائدہ پھر دوسرے لوگ بھی اٹھاسکتے ہیں۔

              

                   آپ کو مارکیٹ میں کسی ’’دوغلے  Hypocratic‘‘ بندے سے کوئی کام پڑجائے یا پھر کسی نیم حکیم قسم کے ڈاکٹر سے کوئی واسطہ پڑ جاۓ تو وہ آپ کو ایسے ایسے اندیشوں میں ڈال دیں گے کہ پھر آپ کو اپنا مستقبل دھندلانظر آنے لگ جائے گا اور یہی ہیرا پھیری کرکے وہ آپ سے پیسے بٹورنے کے چکر میں لگے ہوتے ہیں۔

            اسی  انسانی کمزوری کی وجہ سے پوری ایک انڈسٹری چل رہی ہے ۔میڈیا اور سوشل میڈیا کے اشتہاروں میں بالوں کی خشکی سے لے کر لائف انشورنس Life Insurance تک ، ہر جگہ غیر محسوس انداز میں دیکھنے والے کے ذہن میں ’’عدم تحفظ unsecure ‘‘کا احساس پیدا کیا جاتا ہے اور اس کو اپنی پراڈکٹproduct خریدنے کی ترغیب دے کر اس ’’خوف‘‘ سے بچنے کامشورہ دیا جاتاہے۔


’’درد Pain‘‘ انسان کو اتنا نہیں تڑپاتا جتنا اس درد کا خوف انسان کو بزدل بنادیتا ہے۔آپ نے کبھی انجکشن لگوانے کاتجربہ کیا ہوگا ۔سوئی جسم میں داخل ہونے کی تکلیف اتنی نہیں ہوتی جتنی کہ جب ڈاکٹر دواٸی کو سرنج میں بھرتا ہے اور پھر تین انگلیوں میں تھام کر آپ کی طرف بڑھتا ہے تو لاشعوری طورپرآپکے جسم سےجھرجھری نکل جاتی ہے۔


       


                 خوف کی بہت ساری اقسام ہوسکتی ہیں ۔بعض اوقات انسان ایسی چیز یا صورت حال سے خوفزدہ ہوتا ہے جو اس کے سامنے ہوتی ہے ۔جیسے رات کے اندھیرے میں انسان پیدل گھر آرہا ہو اور اس کے سامنے کوئی خوفناک درندہ آجائے ۔اب یا تو وہ اسکامقابلہ کرے گا یا پھر کوئی تدبیر نکال کر وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرے گا۔ایک اور صورت یہ ہے کہ انسان کے سامنے کوئی چیز نہیں ہوتی لیکن پھر بھی وہ خوفزدہ ہوتا ہے۔جیسے وہ انسان جو ڈراؤنی فلمیں یا ویڈیوز کثرت سے دیکھتا ہے تو اکثر اوقات اکیلے میں اس کو لگتا ہے میرے پیچھے کوئی چڑیل یا دیو کھڑا ہے لیکن جب وہ پیچھے مڑکر دیکھتا ہے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔


       کبھی انسان مستقبل کے خوف میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔یہ خوف کی بڑی خطرناک قسم ہے۔ یقین کی کمزوری انسان کواس خوف میں مبتلا کردیتی ہے ۔ایسے شخص کا ’حال‘ کتنا ہی شان دار اور نعمتوں سے بھرپور ہو لیکن یہ سوچ سوچ کر اس کی راتوں کی نیند اُڑجاتی ہے کہ معلوم نہیں میرامستقبل کیسا ہوگا؟ یہ خوف اس کے اندر مزید کی تڑپ پیدا کردیتی ہے اور وہ نفس کا غلام بن جاتا ہے۔ 

              آج کی نئی نسل کو یہ فکر ہے کہ ڈگری تو لے لی لیکن نوکری کاکیا ہوگا؟جس جوان کی شادی نہیں ہوئی ، وہ سوچتا ہے کہ شادی کے بعد بچوں کا اور ان کی فیسوں کاخرچہ کیسے اٹھاپاؤں گا؟ یہ سب خوف کی وہ اقسام ہیں جو انسان کو ذہنی طورپر بے حد متاثر کردیتی ہیں




خوف کے اسباب کی اگر بات کی جائے تودوسروں کے ساتھ خود کا موازنہ ایک بڑا سبب ہے۔آج کل ہر شخص اپنے معیارِ زندگی کو بہترکرنا اور دوسروں سے آگے بڑھنا چاہتا ہے اور اسی ریس نے انسان کواس خوف میں مبتلا کرلیا ہے کہ اگر دوسرے لوگ مجھ سے آگے بڑھ گئے تو معاشرے میں میری حیثیت کا کیاہوگا؟


جب انسان کا اپنے رب پر توکل کمزور ہو تو وہ پھر انسانوں سے توقعات وابستہ کرلیتا ہے ۔یہ ایک اور عمل ہے جو انسان کو خوف میں مبتلا کردیتا ہے۔وہ ڈرتاہے اور ہر وقت اس فکر میں مبتلا ہوتاہے کہ اگر فلاں شخص نے میری توقعات کے مطابق میرے ساتھ معاملہ نہ کیا تومیرا کیا ہوگا؟

                                 ایک چیز جس کا سامنا انسان کو اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں کرنا پڑتاہے وہ ہے کاموں کو ٹالتے رہنا۔جب آج کا کام کل کے دِن پر منتقل ہوتا ہے تو وہ انسان میں تناٶ بھی پیدا کردیتا ہے۔انسان سمجھتا ہے کہ آج کے دِن میں نے اس کام سے جان چھڑالی لیکن درحقیقت وہ خود کو خوف کے حصار میں قید کرلیتا ہے ۔


       خوف انسان کی توانائیوں کا دُشمن ہے ۔ہر وہ شخص جو اس کو اپنے دِل و دماغ میں لیے پھرتا ہے ، وہ اپنی معمولی مشکلات کو بھی بہت بڑی بنالیتا ہے۔وہ رِسک لینے سے ڈرتا ہے، وہ دوسروں پراعتماد نہیں کرسکتا، وہ کچھ بڑا نہیں سوچ سکتااور پھر ظاہر ہے کہ کچھ بڑاکر بھی نہیں سکتا۔


         یاد رکھیں کہ زندگی میں ترقی وہی انسان کرسکتا ہے جو اپنے اوپر اعتماد رکھتا ہے، جو یقین سے بھرپور ہے اورجس کے اندر بہادری ہے۔جبکہ ڈر اور خوف میں مبتلا انسان کو خوش قسمتی سے اگر کوئی اچھا منصب مل بھی جائے تو وہ اس کو برقرار نہیں رکھ پاتا اور بہت جلد تنزلی کا شکار ہوجاتاہے۔


               اچھی بات یہ ہے کہ انسان کسی بھی طرح کے خوف میں مبتلا ہو، اس کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔ماہرین نفسیات نے اس کے لیے کچھ تدابیر بتائی ہیں ۔خوف کے وقت اگر اپنے پانچوں حواس کو متحرک کیا جائے تو انسان بڑی حدتک اس پر قابو پالیتا ہے۔مثلاً کسی صورت حال میں اگرآپ خوف کے مارے بالکل ساکت ہوجاتے ہیں تو اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر ماریں یا اپنی گردن کو سہلائیں۔


      خوف سے نکلنے کا ایک دوسرا اور بہترین طریقہ اپنے کالر یاکف پر خوشبو لگائے رکھیں اور جب کسی صورت حال سے ڈرنے لگیں تو اس کو سونگھیں۔تیسرا طریقہ یہ بھی ہے کہ جس چیز سے آپ کو خوف آتا ہے اس کی طرف اپنا ذہن متوجہ نہ کریں۔مثلاً آپ کولفٹ میں چڑھنے سے ڈرلگتا ہے تو لفٹ میں داخل ہونے کے بعد آپ اپنے آس پاس کے لوگوں کو دیکھیں ، ان سے بات چیت کریں ، یا پھر لفٹ کے اندر لگی چیزوں پر غورکریں۔خوف سے نکلنے کے لیے آپ اپنی سننے کی حس کو بھی استعمال میں لاسکتے ہیں۔اپناپسندیدہ نعت ، قوالی ، تلاوت یا کوئی بھی آواز سن کر آپ خود کو خوف کی کیفیت سے باہر لاسکتے ہیں۔


                  ایک اور ترکیب جو اکثر کھلاڑی استعمال کرتے ہیں وہ چیونگم چبانا ہے۔یہ دراصل انسانی اعصاب پر تناؤکے حملے کو روکتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان خود کو ہلکا محسوس کرتا ہے۔


       اس خطرناک چنگل سے بچنے کے لیے ایک بہترین ہتھیار اللہ پر توکل ہے۔جب انسان اپنی تمام فکروں ، اندیشوں اور خوفوں کو رب کے آگے رکھ دیتا ہے اور اپنے دِ ل میں صرف اس کی محبت اور توکل کو جگہ دے دیتا ہے توپھر اس کی دنیا بھی بہترین ہوجاتی ہے اور آخرت بھی.



             کسی جگہ خوف کھانا ضروری بھی ہوتا ہے اگر آپ میں خدا کا خوف نہیں تو آپ گناٶں جیسے کہ ناپ تول میں کمی ، جھوٹ، چغلی ،غیبت دغابازی وغیرہ سے نہیں بچ سکتے ۔مجرم کو سزا کا خوف نہ ہو تو بے دھڑک جرم کرے۔ اگر آپ غیر ضروری خوف سے نکلنا چاہتے ہیں تو اوپر دی گٸی ہدایت پر عمل کی سعی یعنی کوشش جاری رکھیں اور ساتھ ہی ساتھ خدا کے کلام و صفاتی ناموں سے پاک ربّ کی حمد و ثناء بیان کریں اور درود پاک کا احتمام بھی۔

وہم واطمینان

                          کہا جاتا ہے کہ ایک شخص نے رومی فلسفی سے ملاقات کی۔ فلسفی نے اُسے اپنے دسترخوان پر مدعو کیا۔ جب وہ شخص شوربہ پینے ل...