ایک وکیل کا بیان ہے کہ ہمارے علاقے میں جاگیرداروں کا ایک خاندان آباد تھا۔ خاندان کا سربراہ بڑے سرکاری عہدے سے ریٹاٸرڈ ہونے کے بعد اپنی زمینوں وغیرہ کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا، اس زمیندار کے دو عجیب شوق تھے ایک تو موٹی رقم اپنے رکھنا ،دوسرا مہنگی گاڑی پر سیر سپاثے کرنا۔ ایک دن وہ اپنے ڈیرے پر موجود تھا کہ کسی بات پر مزارع یعنی زمینوں پر کام کرنے والے مزدور پر غصہ آگیا۔ زمیندار نے ڈنڈا پکڑا اور اس کی پٹائی شروع کردی۔ اس بے چارے نے جان بچانے کے لئے بھاگ کر ایک جھونپڑے میں پناہ لی۔ زمیندار نے باہر سے کنڈی لگا کر جھونپڑے کو آگ لگا دی ، جھونپڑا گھاس پھونس اور لکڑی کا تھا،چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے الاؤ کی شکل اختیار کرگیا ۔ کسی مائی کے لال میں جراءت نہیں تھی کہ زمیندار کی موجودگی میں آگے بڑھ کر اس غریب کی مدد کرتا لہٰذا وہ غریب جھونپڑے کے اندر ہی جل کر بھسم ہوگیا۔کسی نے زمیندار کے خلاف قانونی کاروائی کی ہمت نہیں کی ،کچھ دن قرب وجوار میں سرگوشیوں کے انداز میں اس سانحے کا ذکر ہوا پھر خاموشی چھا گئی۔
اس کے چند ہفتوں بعد زمیندار کے گھٹنوں میں شدید تکلیف شروع ہوگئی ، پہلے درد پھر سوجن اور پھر فالج کا مرض لاحق ہوگیا ۔ زمیندار کے لئے ہلنا جُلنا دوبھر ہوگیا ، ملازم اسے بستر سے استنجا خانے لے جاتے اور واپس بستر پر ڈال دیتے ۔ اس کی زندگی بے رونق ہوگئی ۔ پھر مئی کا مہینہ آیا اور گندم کی کٹائی شروع ہوگئی ۔زمیندار نے زمینوں پر جانے کی خواہش کا اظہار کیا کہ تھریشر سے گندم نکلتے ہوئے بھی دیکھ لوں گا، ہواخواری بھی ہوجائے گی یوں میرا دل بہل جائے گا ۔ملازموں نے اٹھاکر گاڑی میں ڈالا اور ڈرائیور لے کر چل دیا .
چلتے چلتے وہ ایسی جگہ پہنچے جہاں زمین پر گنے کے خشک پتے بکھرے ہوئے تھے جسے ’’چھوئی‘‘کہتے ہیں۔ تھریشر کے ذریعے گندم کے دانے ایسی جگہ الگ کئے جارہے تھے جہاں گاڑی لے جانا دشوار تھا ،ڈرائیور نے زمیندار کو آگاہ کیا تو اس نے کہا کہ میں یہیں گاڑی میں بیٹھا ہوں تم جاکر دیکھو کہ کتنی گندم باقی ہے ؟ ڈرائیور حکم کی تعمیل کے لئے چل پڑا ۔ پیچھے زمیندار نے سگریٹ سلگایا اور جلتی ہوئی تیلی گاڑی سے باہر پھینک دی ،مئی کا مہینہ چلچلاتی دھوپ اور گاڑی کے نیچے اور چاروں طرف’’ چھوئی‘‘بکھری ہوئی تھی جو آگ پکڑنے کا بہانہ مانگتی ہے ،گاڑی کے چاروں طرف آگ کا الاؤ بھڑک اٹھا ، معذور زمیندار بھاگتا بھی تو کیسے ! وہیں گاڑی کے ساتھ جل کر راکھ ہوگیا ۔ بعد میں پتا چلاکہ یہ وہی جگہ تھی جہاں اس نے غریب مزدور کو جلا کر مارا تھا۔
اقتباس از جیسی کرنی ویسی بھرنی،صفحہ 56،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
: اس واقعہ سے معلوم ہوا ظلم کا انجام کس قدر بھیانک ہے۔ حضرت سیِّدُنا شیخ محمد بن اسمٰعیل بخاری علیہ رحمۃ الباری ''صَحِیح بُخاری'' میں نقل کرتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ ظالم کومُہلَت دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو پھراس کو نہیں چھوڑتا۔ یہ فرما کر سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پارہ 12 سورۂ ہُود کی آیت 102تلاوت فرمائی:
وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰی وَہِیَ ظَالِمَۃٌ اِنَّ اَخْذَہٗۤ اَلِیۡمٌ شَدِیۡدٌ
ترجَمۂ کنزالایمان: اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب(عزوجل) کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر۔ بے شک اس کی پکڑ دردناک کرّی ہے۔
دہشت گردوں ، لٹیروں، قتل وغارتگری کا بازار گرم کرنے والوں لوگوں کے بچوں کو اغوا کرنے والوں کو وکیل کے بیان کردہ اس واقعہ سے عبرت حاصل کرنی چاہئے، انہیں اپنے انجام سے بے خبر نہیں رہنا چاہئے کہ جب دنیا میں بھی قہر کی بجلی گرتی ہے تو اس طرح کے ظالم لو گ کُتّے کی موت مارے جاتے ہیں اور ان پر دو آنسو بہانے والا بھی کوئی نہیں ہوتا اور آہ ! آخِرت کی سزا کون برداشت کر سکتا ہے!یقینا لوگوں پر ظلم کرنا گناہ، دنیا وآخِرت کی بربادی کا سبب اور عذابِ جہنَّم کا باعِث ہے۔اس میں ﷲ ورسول عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نافرمانی بھی ہے اور بندوں کی حق تلفی بھی۔سمجھدار اور عقلمند کے لیے اتنی ہی نصیحت کافی ہے. پھر بھی کوٸی ڈھیل دیکھ کر نہیں سدھرتا تو وہ ہلاکت میں پڑتا ہے۔
ایک حدیث کا مفہوم ہے ”جو ذحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا“۔
حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم سے روایت ہے، سرور کاٸنات محمد صلى الله عليه واله وسلم کا ارشاد پاک ہے۔”مظلوم کی بدعا سے بچو کیونکہ وہ اللہ تعالٰی سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالٰی کسی حقدار کو اس کے حق سے محروم نہیں کرتا۔(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الظلم والغضب، ٢٠٠/٢، الحدیث: ٧٥٩٤، الجزءالثالث)








