Sunday, April 27, 2025

*عبرتناک واقعہ

 




                                                                                               ایک وکیل کا بیان ہے کہ ہمارے علاقے میں جاگیرداروں کا ایک خاندان آباد تھا۔ خاندان کا سربراہ بڑے سرکاری عہدے سے ریٹاٸرڈ ہونے کے بعد اپنی زمینوں وغیرہ کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا، اس زمیندار کے دو عجیب شوق تھے ایک تو موٹی رقم اپنے رکھنا ،دوسرا مہنگی گاڑی پر سیر سپاثے کرنا۔ ایک دن وہ اپنے ڈیرے پر موجود تھا کہ کسی بات پر مزارع یعنی زمینوں پر کام کرنے والے مزدور پر غصہ آگیا۔ زمیندار نے ڈنڈا پکڑا اور اس کی پٹائی شروع کردی۔ اس بے چارے نے جان بچانے کے لئے بھاگ کر ایک جھونپڑے میں پناہ لی۔ زمیندار نے باہر سے کنڈی لگا کر جھونپڑے کو آگ لگا دی ، جھونپڑا گھاس پھونس اور لکڑی کا تھا،چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے الاؤ کی شکل اختیار کرگیا ۔ کسی مائی کے لال میں جراءت نہیں تھی کہ زمیندار کی موجودگی میں آگے بڑھ کر اس غریب کی مدد کرتا لہٰذا وہ غریب جھونپڑے کے اندر ہی جل کر بھسم ہوگیا۔کسی نے زمیندار کے خلاف قانونی کاروائی کی ہمت نہیں کی ،کچھ دن قرب وجوار میں سرگوشیوں کے انداز میں اس سانحے کا ذکر ہوا پھر خاموشی چھا گئی۔


                                              اس کے چند ہفتوں بعد زمیندار کے گھٹنوں میں شدید تکلیف شروع ہوگئی ، پہلے درد پھر سوجن اور پھر فالج کا مرض لاحق ہوگیا ۔ زمیندار کے لئے ہلنا جُلنا دوبھر ہوگیا ، ملازم اسے بستر سے استنجا خانے لے جاتے اور واپس بستر پر ڈال دیتے ۔ اس کی زندگی بے رونق ہوگئی ۔ پھر مئی کا مہینہ آیا اور گندم کی کٹائی شروع ہوگئی ۔زمیندار نے زمینوں پر جانے کی خواہش کا اظہار کیا کہ تھریشر سے گندم نکلتے ہوئے بھی دیکھ لوں گا، ہواخواری بھی ہوجائے گی یوں میرا دل بہل جائے گا ۔ملازموں نے اٹھاکر گاڑی میں ڈالا اور ڈرائیور لے کر چل دیا .

                              چلتے چلتے وہ ایسی جگہ پہنچے جہاں زمین پر گنے کے خشک پتے بکھرے ہوئے تھے جسے ’’چھوئی‘‘کہتے ہیں۔ تھریشر کے ذریعے گندم کے دانے ایسی جگہ الگ کئے جارہے تھے جہاں گاڑی لے جانا دشوار تھا ،ڈرائیور نے زمیندار کو آگاہ کیا تو اس نے کہا کہ میں یہیں گاڑی میں بیٹھا ہوں تم جاکر دیکھو کہ کتنی گندم باقی ہے ؟ ڈرائیور حکم کی تعمیل کے لئے چل پڑا ۔ پیچھے زمیندار نے سگریٹ سلگایا اور جلتی ہوئی تیلی گاڑی سے باہر پھینک دی ،مئی کا مہینہ چلچلاتی دھوپ اور گاڑی کے نیچے اور چاروں طرف’’ چھوئی‘‘بکھری ہوئی تھی جو آگ پکڑنے کا بہانہ مانگتی ہے ،گاڑی کے چاروں طرف آگ کا الاؤ بھڑک اٹھا ، معذور زمیندار بھاگتا بھی تو کیسے ! وہیں گاڑی کے ساتھ جل کر راکھ ہوگیا ۔ بعد میں پتا چلاکہ یہ وہی جگہ تھی جہاں اس نے غریب مزدور کو جلا کر مارا تھا۔


                                                اقتباس از جیسی کرنی ویسی بھرنی،صفحہ 56،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)                                                    

:                                  اس واقعہ سے معلوم ہوا ظلم کا انجام کس قدر بھیانک ہے۔ حضرت سیِّدُنا شیخ محمد بن اسمٰعیل بخاری علیہ رحمۃ الباری ''صَحِیح بُخاری'' میں نقل کرتے ہیں: حضرتِ سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، سرکارِمدینۂ منوّرہ،سردارِمکّۂ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ ظالم کومُہلَت دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو اپنی پکڑ میں لیتا ہے تو پھراس کو نہیں چھوڑتا۔ یہ فرما کر سرکارِ نامدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پارہ 12 سورۂ  ہُود کی آیت 102تلاوت فرمائی:

 وَکَذٰلِکَ اَخْذُ رَبِّکَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰی وَہِیَ ظَالِمَۃٌ  اِنَّ اَخْذَہٗۤ اَلِیۡمٌ شَدِیۡدٌ

ترجَمۂ کنزالایمان: اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب(عزوجل) کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر۔ بے شک اس کی پکڑ دردناک کرّی ہے۔ 

    دہشت گردوں ، لٹیروں، قتل وغارتگری کا بازار گرم کرنے والوں لوگوں کے بچوں کو اغوا کرنے والوں  کو وکیل کے بیان کردہ اس واقعہ سے عبرت حاصل کرنی چاہئے، انہیں اپنے انجام سے بے خبر نہیں رہنا چاہئے کہ جب دنیا میں بھی قہر کی بجلی گرتی ہے تو اس طرح کے ظالم لو گ کُتّے کی موت مارے جاتے ہیں اور ان پر دو آنسو بہانے والا بھی کوئی نہیں ہوتا اور آہ ! آخِرت کی سزا کون برداشت کر سکتا ہے!یقینا لوگوں پر ظلم کرنا گناہ، دنیا وآخِرت کی بربادی کا سبب اور عذابِ جہنَّم کا باعِث ہے۔اس میں ﷲ ورسول عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نافرمانی بھی ہے اور بندوں کی حق تلفی بھی۔سمجھدار اور عقلمند کے لیے اتنی ہی نصیحت کافی ہے. پھر بھی کوٸی ڈھیل دیکھ کر نہیں سدھرتا تو وہ ہلاکت میں پڑتا ہے۔

 ایک حدیث کا مفہوم ہے ”جو ذحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا“۔

                                 

                             حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم سے روایت  ہے، سرور کاٸنات محمد صلى الله عليه واله وسلم کا ارشاد پاک ہے۔”مظلوم کی بدعا سے بچو کیونکہ وہ اللہ تعالٰی سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالٰی کسی حقدار کو اس کے حق سے محروم نہیں کرتا۔(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الظلم والغضب، ٢٠٠/٢، الحدیث: ٧٥٩٤، الجزءالثالث)

                                      


Saturday, April 26, 2025

چوٸا اور مینڈک







 

                                          ایک دفعہ کا زکر ہے کہاایک مینڈک اور چوٸے میں دوستی ہو گٸی۔ دونوں روزانہ نہر کنارے ملتے اور ایک دوسرے کی خبر گیری کرتے،دن یونہی گزر رہے تھے ،ایک دن مینڈک نے کہا اگر میں نے تمہیں بلانا ہو تو کوٸی ایسا طریقہ ہوکے بوقت ضرورت دونوں ایک دوسرے سے مل سکیں  ،اگر ہم ایک دوسرے  کےساتھ اپنی ایک ایک ٹانگ باندھ لیں،اگر تم دھاگہ ہلاٶ تو مجھے خبر ہو جاۓ اورمیں دھاگہ ہلاٶں تو تم نہر سے باہرآجانا،

                                  چناچہ جب مینڈک کو بلانا ہوتا تو دھاگہ ہلاتا چوٸا پہنچ جاتا اور اسی طرح جب چوٸے کو بلانا ہوتا تو نہر کنارے پہنچ جاتا اور اپنی ٹانگ سے بندھے دھاگے کو ہلانے پر مینڈک باہر آجاتا۔

ا                                  ایک دن چیل نے چپکے سے چوۓ کو دبوچ لیااورہوامیں اڑنے لگاسو مینڈک بھی دھاگے سے ٹانگ بندھ جانے کی وجہ سےہوا میں بلند ہو گیا اور چوۓ کیساتھ بلا وجہ مارا گیا

📝نصیحت


اسلٸے کہتے ہیں نادان کی ہر بات نہ ماننا بہتر ہے۔

Sunday, April 13, 2025

اچھاٸی کیوں چھوڑوں؟




    






    




   

      ایک بزرگ اپنے خادم کے ساتھ دریا کنارے گزر رہے تھے۔کہ ان کی نظر ایک بچھو پر پڑی جو دریا میں ڈوب رہا تھا انہوں نے جلدی میں اسے باہر نکالنے کی سعی کی تو بچھو نے انہیں کاٹ لیا۔

                دوسری بار ان بزرگ نے ایک لکڑی سے اُس بچھو کو نکالنے کی کو شش کی تو ساتھ میں موجود خادم سے رہا نہ گیا بولا”پہلے آپ نے اسے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش کی تو اس موذی نے آپ کو کاٹ لیا اب آپ اسے لکڑی سے نکال رہے ہیں آپ اس کے ساتھ اتنی اچھاٸی سے کیوں پیش آ رہے ہیں ہیں“ یہ سن کر بزرگ نے جواب دیا”ہاں وہ بُرا ہے پر وہ اپنی بڑاٸی نہیں چھوڑ رہا ، تو اللّٰہ عزّوجل نے مجھے اچھاٸی دی ہے تو میں اچھاٸی کیوں چھوڑوں؟

📝کیوریشن


اس واقعے سے یہ سیکھنے کو ملا کہ کسی کی بُراٸی سے دل بردا شتہ ہو کر اپنی اچھاٸی چھوڑنی نہیں ہے کیونکہ اللہ تو جانتا ہے وہ نیّتوں سے واقف ہے جیسا کہ حدیث نبوی صلى الله عليه واله وسلم ہے

   ”اعمال کا دارومدار نیّتوں پر ہے“

      ہمیں یہ نہیں دیکھنا دنیا کیا کہہ رہی ہے۔

ہمیں یہ دیکھنا ہے اللہ کیا فرما رہا ہے۔



Saturday, April 5, 2025

رزق نہیں دے گا؟


 

                        ایک نوجوان جسکا اخلاق و کردار وغیرہ ٹھیک تھا، کسی کے گھر اسکی بیٹی کا رشتہ لینے گیا تو لڑکی کا باپ اسکی حالت دیکھ اور سن کر بولا”تم غریب ہو اور میری بیٹی اور میری بیٹی غربت وتکالیف وغیرہ کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی، سو میں اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دے سکتا                  


                       پھر ایک بداخلاق و برے کردار والا دولت مند لڑکا اسی شخص کی بیٹی کا رشتہ مانگنے گیا

                     پھر ایک بداخلاق و بدکردار لڑکا اسی لڑکی کا رشتہ لینے گیا تو اس کاباپ رشتہ دینے کیلئے راضی ہوگیا اوراس کے، بداخلاق ہونے کے بارے میں یہ کہا اللہ اس کو ہدایت دے گا انشاءاللہ تو اس کی بیٹی نے کہا: باباجان جو ہدایت دینے پر قادر ہے کیا وہ اللہ اسے رزق نہیں دے گا ؟؟ یا ان دونوں خداؤں میں کوئ فرق ہے؟

                      آیت کریمہ ہے” اور زمین پر چلنے والا کوٸی جاندار ایسا نہیں جسکا رزق اللّٰہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو,اور وہ ہر ایک کے ٹھکانے وسپرد کرنے کی جگہ کو جانتا ہے۔سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب میں موجود ہے۔“

                                                                                سورہ ھود:6

                                 علامہ صاوی رحمتہ اللہ علیہ اس ایت کریمہ کے تحت 

فرماتے ہیں اس آیت سے یہ مراد لینا نہیں کہ جانداروں کو رزق دینا اللّٰہ پر واجب ےکیونکہ اللّٰہ پاک اس سے پاک ہے کہ کوٸی چیز اس پر واجب ہوبلکہ آیت سے مراد یہ ہے کہ جانداروں کر رزق دینا اور ان کی کفالت کرنااللّٰہ پاک نے اپنے ذمہ کرم پر لازم فرما لیا ہے  اور یہ اسکی رحمت و فضل ہے کہ یہ اسکے خلاف نہیں فرماتا۔ اور اسباب صرف اسلٸے اختیار کرے کہ اللہ پاک نے اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا ناکہ ان پر بھروسہ کر بیٹھے  کیونکہ اللّہ پاک فارغ رہنے والے بندے کو پسند نہیں فرماتا  

                                                              تفسیر صراط الجنان ھود :٦


📝  یہ چیز ہمارے عام معاشرے میں نظر آتی ہے، ہر کوٸی اپنے پیاروں کے لۓ لکھ پتی کی تلاش میں ہے ،اخلاق و کردار ،حلال و حرام کا معلوم کرنا بہت دور کی بات ہے

           ہمیں یہ بات زہن نشین کرنی چاہٸے کہ پیدا اللّٰہ پاک نے کیا ہے تو رزق بھی وہی دے گا ، اس کو پانے کی تدبیر بھی وہی عطا کرے گا مشکلات تو زندگی کا حصہ ہیں کسی کے لٸے زیادہ تو کسی لٸے کم ۔ رزق دینے کا ذمہ ربّ نے لیا ہے کسی کو زیادہ دے کر آزماتا ہے کسی کو محدود دے کر اپنی طرف آنے کا موقع فراٸم کرتا ہے۔ انسان پھر بھی ناشکری سے باز نہیس آتا۔

    آیت کریمہ کا ترجعہ ہے ”بے شک اللہ ہی روزی دینے والا، زورآور، زبردست ہے“                                                     سورہ الزاریات :58


پرانے دور کے جیب کترے بھی ایماندار تھے!




             بس سے اتر کر جیب میں ہاتھ ڈالا۔ میں چونک پڑا۔ جیب کٹ چکی تھی. جیب میں تھا بھی کیا؟ ٹوٹل 9 روپے اور ایک خط جو میں نے ماں کو لکھا تھا کہ "ماں! میری نوکری چھوٹ گئی ہے ابھی پیسے نہیں بھیج پاؤں گا"۔ 


         تین دنوں سے وہ پوسٹ کارڈ جیب میں پڑا تھا، پوسٹ کرنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ نو روپئے جا چکے تھے۔ یوں نو روپئے کوئی بڑی رقم نہیں تھی۔ لیکن جس کی نوکری چھوٹ گئی ہو اُس کے لیے نو سو سے کم بھی تو نہیں ہوتی ہے۔۔۔


کچھ دن گزرے۔ .....

ماں کا خط ملا۔ پڑھنے سے پہلے میں سہم گیا۔ ضرور پیسے بھیجنے کو لکھا ہوگا۔ لیکن خط پڑھ کر میں حیران رہ گیا! 


               ماں نے لکھا تھا: "بیٹا! تیرا بھیجا پچاس روپئے کا منی آرڈر ملا۔ تو کتنا اچھا ہے رے ۔۔۔ پیسے بھیجنے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتا" ۔ میں کافی دنوں تک اس اُدھیڑ بُن میں رہا کہ آخر ماں کو پیسے کس نے بھیجے۔۔۔۔؟ 


کچھ دن بعد ایک اور خط ملا۔ "بھائی نو روپئے تمھارے اور اکتالیس روپئے اپنے ملا کر میں نے تمھاری ماں کو منی آرڈر بھیج دیا ہے ۔ فکر نہ کرنا، ماں تو سب کی ایک جیسی ہوتی ہے نا ! وہ کیوں بھوکی رہے؟

- *تمھارا جیب کترا۔۔۔*

📝کیوریشن

     

       پہلے دور میں لوگوں میں کچھ نہ کچھ شرم و حیا تھی اب تو ایسے ایسے واقعات سننے کو ملتے ہیں کہ بس عقل دنگ رہ جاتی ہے ڈکیت معمولی رقم کے لٸے بندے کی جان لے لیتے ہیں،  نہ چھوٹے کا لحاظ نہ بزرگ کی بزرگی کا احترام کرتے ہیں۔
 اس ناگہانی سے بچنے کے لٸے ١٠ بار یا جلیلُ پڑھ کر اپنی نقدی و چیزوں وغیرہ پر دم کرنے سے بھی بچت ہو جاتی ہے، اسکے علاوہ سفر کی دعا ، آیت الکرسی و درود شریف بھی مفید ہے۔ اللّہ عمل کی توفیق دے۔

مال و اسباب جیسے کہ دکان، گھر وغیرہ پر روزانہ ٤٩/49 بار ”یا اللّٰہُ“پڑھ کر دم کر دیا جاۓ تو نقصانات سے ان شاء اللہ حفاظت ہو گی

چھپ نہیں سکتا

 



Other language readers use translator

ایک دکاندار سے پوچھا گیا کس طرح اس چھوٹی اور بند گلی میں اپنی روزی روٹی کما لیتے ہو؟ دکاندار نے جواب دیا: میں جس سوراخ میں بھی چھپ جاؤں موت کا فرشتہ مجھے ڈھونڈ نکالے گا تو یہ کس طرح ممکن ہے رزق والا فرشتہ مجھے نہ ڈھونڈ سکے.

کیوریشن:

        اس واقعے میں ہمارے لہے خدا پر توکل کا درس ہے ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے 

     ” اگر لوگ اس طرح توکل کریں، جس طرح توکل کرنے کا حق ہے تو انہیں ایسے روزی ملے جیسے پرندوں کو ملتی ہے صبح اپنے گھونسلوں سے بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے ہوٸے واپس آتے ہیں“۔

              رتبے و عہدے کے لحاظ سے اپنے سے کمتر کی طرف نظر ہو تو بھی توکّل نصیب ہو گا۔

          

بادشاہ کی حیرت انگیز آفر


 






                 ایک ریاست  کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح میرے محّل کا مرکزی دروازہ کھولا جاٸے گا ۔ تب لوگوں میں سے جس شخص نے محل کی جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اسکی ملکیت  ہو جاٸے گی۔ اس اعلان کو سن کر لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ میں تو محل کی اس فلاں چیز کو ہاتھ لگاٶں گا، کچھ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاٶں گا کچھ نے کہا میں میں چاندی کو، کچھ ہیرے جواہرات کو ، کچھ نے گھوڑوں کو ، کچھ نے قالین کو ،  الغرض جس کی کھوپڑی میں جو آیا اسنے وہ چیز ہاتھ لگانے کا کہدیا۔ 
           صبح جب محل کا مرکزی دروازہ کھولا گیا تو ہر کوٸی اپنی پسندیدہ چیز ہاتھ لگانے کو لپکا ۔ بادشاہ لوگوں کو ادھر اُدھر بھگاتے دیکھ رہا تھا اور ہلکا سا مسکرا بھی رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک شخص بادشاہ کی سمت أیا اور بادشاہ کو چھو لیا(ہاتھ لگا دیا) بادشاہ کو چھوتے ہی بادشاہ ہی اسکے اعلان کے مطابق بادشاہ اسکا ہو گیا اور اسکے ساتھ ہی بادشاہ کی تمام چیزیں اُس کی ہو گہیں۔



📝کیوریشن/اضافی کمینٹری
             اللّہ پاک کی بناٸی ہوٸی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں لیکن ہم اس بات پر زرا بھی غور نہیں کرتے، کہ دنیا کے مالک کو پا لیا جاۓ ، اگر مالک ہمارا ہو گیا تو اسکی بناٸی ہر چیز ہماری ہو جاۓ گی۔

              جس طرح بادشاہ نے لوگوں کو موقع دیا اور لوگوں نے غلطیاں کیں، بالکل اسی طرح ساری دنیا کا مالک اللّٰہ بھی ہمیں روز موقع دیتا ہے لیکن ہم بھی روز غلطیاں کرتے ہیں ۔


وہم واطمینان

                          کہا جاتا ہے کہ ایک شخص نے رومی فلسفی سے ملاقات کی۔ فلسفی نے اُسے اپنے دسترخوان پر مدعو کیا۔ جب وہ شخص شوربہ پینے ل...